أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَسُئِلَ فَقِيلَ لَهُ: أَفْتِنَا فِي الْبَاذِقِ ؟ فَقَالَ: سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ، وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ.
ابوجویریہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) کو سنا ان سے مسئلہ پوچھا گیا اور کہا گیا : ہمیں بادہ ١ ؎ کے بارے میں فتویٰ دیجئیے۔ تو انہوں نے کہا : محمد ﷺ کے زمانے میں بادہ نہیں تھا، (یا آپ نے اس کا حکم پہلے ہی فرما دیا ہے کہ) جو بھی چیز نشہ لانے والی ہو وہ حرام ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الٔبشربة ١٠(٥٥٩٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٤١٠) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٦٩٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: باذق فارسی کے لفظ بادہ کی تعریب ہے۔ اس کے معنی خمر اور شراب کے ہیں، شاعر کہتا ہے : ہیں رنگ جدا، دور نئے، کیف نرالے شیشہ وہی، بادہ وہی، پیمانہ وہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5606