أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ طَاوُسٌ: وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر (رض) سے کہا : کیا رسول اللہ ﷺ نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں، طاؤس کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اسے میں نے ان سے (ابن عمر سے) سنا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الٔمشربة ٦ (١٩٩٧) ، سنن الترمذی/الٔلشربة ٤ (١٨٦٧) ، (تحفة الٔعشراف : ٧٠٩٨) ، مسند احمد (٢/٢٩، ٣٥، ٤٧، ٥٦، ١٠١، ١٠٦، ١١٥، ١٥٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے خطرہ رہتا ہے کہ فوراً نشہ پیدا ہوجائے اور آدمی کو پتہ نہ چلے اور نشہ لانے والی نبیذ پی بیٹھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5614