أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ عَمٍّ لَهَا، يُقَالُ: لَهُ أَنَسٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 ؟، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ سورة الأحزاب آية 36 ؟، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّيأَشْهَدُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ (ﷺ) نَهَى عَنِ النَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ.
انس (قیسی بصریٰ ) کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا : ما آتاکم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا جو کچھ تمہیں رسول دے، اسے لے لو اور جس سے تمہیں روکے، اس سے رک جاؤ (الحشر : ٧ ) میں نے کہا : کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا : کیا یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا : وما کان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى اللہ ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے میں فیصلہ کردیں اپنے معاملات میں کوئی حق نہیں رہتا (الاحزاب : ٣٦ ) میں نے کہا : کیوں نہیں، انہوں نے کہا : تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے نبی اکرم ﷺ نے لکڑی کے برتن، روغنی برتن، کدو کی تو نبی اور لاکھ برتن سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٣٦٣) (ضعیف) (اس کے رواة انس قیسی اور اسماء قیسیہ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5644