أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: الْقَاضِي إِذَا أَكَلَ الْهَدِيَّةَ فَقَدْ أَكَلَ السُّحْتَ، وَإِذَا قَبِلَ الرِّشْوَةَ بَلَغَتْ بِهِ الْكُفْرَ. (حديث مقطوع) (حديث موقوف) وَقَالَ مَسْرُوقٌ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَدْ كَفَرَ، وَكُفْرُهُ أَنْ لَيْسَ لَهُ صَلَاةٌ.
مسروق کہتے ہیں کہ قاضی نے جب ہدیہ لیا ١ ؎ تو اس نے حرام کھایا، اور جب اس نے رشوت قبول کرلی تو وہ کفر تک پہنچ گیا، مسروق نے کہا : جس نے شراب پی، اس نے کفر کیا اور اس کا کفر یہ ہے کہ اس کی نماز (قبول) نہیں ہوتی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٤٣٣) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” خلف “ حافظہ کے کمزور ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یعنی کسی ایسے شخص سے جس سے قاضی بننے سے پہلے نہیں لیتا تھا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5665