أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نُبَاتَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ: أَنِ ارْزُقْ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الطِّلَاءِ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ.
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے اپنے کسی عامل (گورنر) کو لکھا : مسلمانوں کو وہ طلاء پینے دو جس کے دو حصے جل گئے ہوں اور ایک حصہ باقی ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٤٦١) (حسن، صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: انگور کا رس دو تہائی جل گیا ہو اور ایک تہائی رہ جائے تو اس کو طلا کہتے ہیں، یہ حلال ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5715