أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، فَقَالَ: أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا.
عثمان بن ابی العاص (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم ان کے امام ہو (لیکن) ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا ١ ؎ اور ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٤٠ (٥٣١) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٩٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٧٠) ، مسند احمد ٤/٢١ (٢١٧، ٢١٨) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/ الصلاة ٣٧ (٤٦٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 672