أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَكُونُ فِي الصَّيْدِ وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا الْقَمِيصُ، أَفَأُصَلِّي فِيهِ ؟ قَالَ: وَزُرَّهُ عَلَيْكَ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ.
سلمہ بن الاکوع (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں شکار پر جاتا ہوں اور میرے جسم پر سوائے قمیص کے کچھ نہیں ہوتا، تو کیا میں اس میں نماز پڑھ لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : (ہاں پڑھ لو) اور اس میں ایک تکمہ لگا لو گرچہ کانٹے ہی کا ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٨١ (٦٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٣٣) ، مسند احمد ٤/٤٩، ٥٤ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 765