أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَبِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ (ﷺ) إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ.
شریح کہتے ہیں : میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کون سا کام پہلے کرتے ؟ انہوں نے کہا : مسواک سے (پہل کرتے) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ١٥ (٢٥٣) ، سنن ابی داود/فیہ ٢٧ (٥١) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧ (٢٩٠) ، مسند احمد ٦/٤١، ١١٠، ١٨٢، ١٨٨، ١٩٢، ٢٣٧، ٢٥٤، (تحفة الأشراف : ١٦١٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی طبیعت میں کس درجہ لطافت تھی کہ منہ میں معمولی تغیر کا پیدا ہونا بھی گوارا نہ تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 8