أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ: لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْمُتَقَدِّمَةِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ١ ؎ صفوں کے بیچ میں سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے، اور فرماتے : اختلاف نہ کرو ٢ ؎ ورنہ تمہارے دل مختلف ہوجائیں ٣ ؎ نیز فرماتے : اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٦) ، مسند احمد ٤/٢٨٥، ٢٩٦، ٢٩٧، ٢٩٨، ٢٩٩، ٣٠٤، سنن الدارمی/الصلاة ٤٩ (١٢٩٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی انہیں درست کرتے ہوئے۔ ٢ ؎: یعنی آگے پیچھے نہ کھڑے ہو۔ ٣ ؎: یعنی ان میں پھوٹ پڑجائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 811