أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قال: جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِي صَلاةِ الصُّبْحِ فَرَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) صَلَاتَهُ قَالَ: يَا فُلَانُ أَيُّهُمَا صَلَاتُكَ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ لِنَفْسِكَ.
عبداللہ بن سرجس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا، اور رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز میں تھے، اس نے دو رکعت سنت پڑھی، پھر آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا، جب رسول اللہ ﷺ اپنی نماز پوری کرچکے تو فرمایا : اے فلاں ! ان دونوں میں سے تمہاری نماز کون سی تھی، جو تم نے ہمارے ساتھ پڑھی ہے ؟ یا جو خود سے پڑھی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٩ (٧١٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٤ (١٢٦٥) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٠٣ (١١٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٥٣١٩) ، مسند احمد ٥/٨٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے مقصود اس کی اس حرکت پر زجر و ملامت کرنا تھا کہ جس نماز کی خاطر اس نے مسجد آنے کی زحمت اٹھائی تھی اسے پا کر دوسری نماز میں لگنا عقلمندی نہیں ہے، سنت کے لیے گھر ہی بہتر جگہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 868