أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صُبَيْحٍ قال: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِابْنِ عُمَرَ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى خَصْرِي فَقَالَ لِيهَكَذَا ضَرْبَةً بِيَدِهِ فَلَمَّا صَلَّيْتُ قُلْتُ: لِرَجُلٍ مَنْ هَذَا قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا رَابَكَ مِنِّي قَالَ: إِنَّ هَذَا الصَّلْبُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) نَهَانَا عَنْهُ.
زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ (کمر) پر رکھ لیا، تو انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے مارا، جب میں نے نماز پڑھ لی تو ایک شخص سے (پوچھا) یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ہیں، میں نے ان سے پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ! میری کیا چیز آپ کو ناگوار لگی ؟ تو انہوں نے کہا : یہ صلیب کی ہیئت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے روکا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٦٠ (٩٠٣) مختصراً ، (تحفة الأشراف : ٦٧٢٤) ، مسند احمد ٢/٣٠، ١٠٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 891