أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قال: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: صَلَّيْتُمْقُلْنَا: نَعَمْقَالَ: يَا جَارِيَةُ هَلُمِّي لِي وَضُوءًا مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَاقَالَ زَيْدٌ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَيُخَفِّفُ الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ.
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک (رض) کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا : تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کہا : جی ہاں ! تو انہوں نے کہا : بیٹی ! میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز تمہارے اس امام ١ ؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی نماز سے مشابہت رکھتی ہو، زید کہتے ہیں : عمر بن عبدالعزیز رکوع اور سجدے مکمل کرتے اور قیام و قعود ہلکا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٨٤٠) ، مسند احمد ٣/١٦٢، ١٦٣، ٢٥٤، ٢٥٥، ٢٥٩ (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے ) وضاحت : ١ ؎: اس سے مراد خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 981