At-Tawba— The Repentance
اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے بیزاری کا اعلان ہے[1] ۔ ان مشرکوں کے بارے میں جن سے تم نے عہد وپیمان کیا تھا۔
پس (اے مشرکو!) تم ملک میں چار مہینے تک تو چل پھر لو[1] ، جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور یہ (بھی یاد رہے) کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے واﻻ ہے۔[2]
اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو بڑے حج کے دن[1] صاف اطلاع ہے کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے، اور اس کا رسول بھی، اگر اب بھی تم توبہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، اور اگر تم روگردانی کرو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے۔ اور کافروں کو دکھ اور مار کی خبر پہنچا دیجئے۔
بجز ان مشرکوں کے جن سے تمہارا معاہده ہو چکا ہے اور انہوں نے تمہیں ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچایا نہ کسی کی تمہارے خلاف مدد کی ہے تو تم بھی ان کے معاہدے کی مدت ان کے ساتھ پوری کرو[1] ، اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔
پھر حرمت والے مہینوں[1] کے گزرتے ہی مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو[2] انہیں گرفتار کرو[3]، ان کا محاصره کرلو اور ان کی تاک میں ہر گھاٹی میں جا بیٹھو[4]، ہاں اگر وه توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰة ادا کرنے لگیں توتم ان کی راہیں چھوڑ دو[5]۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔