حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ أَکَلَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم النَّقِيَّ يَعْنِي الْحُوَّارَی فَقَالَ سَهْلٌ مَا رَأَی رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم النَّقِيَّ حَتَّی لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَعَالَی فَقِيلَ لَهُ هَلْ کَانَتْ لَکُمْ مَنَاخِلُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم قَالَ مَا کَانَتْ لَنَا مَنَاخِلُ قِيلَ کَيْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِالشَّعِيرِ قَالَ کُنَّا نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ ثُمَّ نَعْجِنُهُ
سہل بن سعد (رض) سے کسی نے پوچھا کہ حضور اقدس ﷺ نے کبھی سفید میدہ کی روٹی بھی کھائی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضور ﷺ کے سامنے اخیر عمر تک کبھی میدہ آیا بھی نہیں ہوگا۔ پھر سائل نے پوچھا کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں تم لوگوں کے یہاں چھلنیاں تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں تھیں سائل نے پوچھا کہ پھر جو کی روٹی کیسے پکاتے تھے ؟ (چونکہ اس میں تنکے وغیرہ زیادہ ہوتے ہیں) سہل نے فرمایا کہ اس آٹے میں پھونک مار لیا کرتے جو موٹے موٹے تنکے ہوتے تھے وہ اڑ جاتے تھے۔ باقی گوندھ لیتے تھے