حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلائِ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْکُوفِيُّ قَالا حَدَّثَنَا ابْنُ الْفُضَيْلِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ أَتَی عَلِيٌّ بِکُوزٍ مِنْ مَائٍ وَهُوَ فِي الرَّحْبَةِ فَأَخَذَ مِنْهُ کَفًّا فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ ثُمَّ شَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ هَذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ هَکَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم فَعَلَ
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) تعالہ عنہ کے پاس جب وہ مسجد کوفہ کے میدان (جو ان کا دارالقضاء تھا) تشریف فرما تھے۔ ایک کوزہ پانی لایا گیا انہوں نے ایک چلو پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور پھر اپنے منہ اور ہاتھوں پر مسح کیا پھر کھڑے ہو کر پانی پیا اور فرمایا کہ یہ اس شخص کا وضو ہے جو پہلے سے با وضو ہو۔ ایسے ہی میں نے حضور اقدس ﷺ کو کرتے دیکھا۔