حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ سَعْدٌ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم ضَحِکَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ قُلْتُ کَيْفَ کَانَ قَالَ کَانَ رَجُلٌ مَعَهُ تُرْسٌ وَکَانَ سَعْدٌ رَامِيًا وَکَانَ يَقُولُ کَذَا وَکَذَا بِالتُّرْسِ يُغَطِّي جَبْهَتَهُ فَنَزَعَ لَهُ سَعْدٌ بِسَهْمٍ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَمَاهُ فَلَمْ يُخْطِئْ هَذِهِ مِنْهُ يَعْنِي جَبْهَتَهُ وَانْقَلَبَ الرَّجُلُ وَشَالَ بِرِجْلِهِ فَضَحِکَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ قُلْتُ مِنْ أَيِّ شَيْئٍ ضَحِکَ قَالَ مِنْ فِعْلِهِ بِالرَّجُلِ
عامر بن سعید کہتے ہیں کہ میرے والد سعد نے فرمایا کہ حضور اقدس ﷺ غزوہ خندق کے دن ہنسے۔ حتی کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ عامر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ کس بات پر ہنسے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ ایک کافر ڈھال لئے ہوئے تھا اور سعد بڑے تیر انداز لیکن وہ اپنی ڈھال ادھر ادھر کرلیتا تھا جس کی وجہ سے اپنی پیشانی کا بچاؤ کر رہا تھا۔ (گویا مقابلہ میں سعد کا تیر نہ لگنے دیتا تھا۔ حالانکہ یہ مشہور تیر انداز تھے) سعد نے ایک مرتبہ تیر نکالا (اور اس کی کمان میں کھینچ کر انتظار میں رہے) جس وقت اس نے ڈھال سے سر اٹھایا فورا ایسا لگایا کہ پیشانی سے چوکا نہیں اور فوراً گرگیا ۔ ٹانگ بھی اوپر اٹھ گئی۔ پس حضور اقدس ﷺ اس قصہ پر ہنسے میں نے پوچھا کہ اس میں کونسی ہنسنے کی بات ہے انہوں نے فرمایا کہ سعد کے اس فعل پر۔