hadith book logo

Shamail Tirmidhi: Hadith 256

.

شمايل الترمذي

256
Shamail Tirmidhi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّهُ صَلَّی مَعَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ قَالَ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ ذُو الْمَلَکُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْکِبْرِيَائِ وَالْعَظَمَةِ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ الْبَقَرَةَ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعَهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ وَکَانَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَکَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُکُوعِهِ وَکَانَ يَقُولُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ فَکَانَ سُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ وَکَانَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَی سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَی ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَکَانَ مَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنَ السُّجُودِ وَکَانَ يَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي حَتَّی قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَائَ وَالْمَائِدَةَ أَوِ الأَنْعَامَ شُعْبَةُ الَّذِي شَکَّ فِي الْمَائِدَةِ وَالأَنْعَامِ
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک رات حضور اقدس ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ( بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ قصہ رمضان المبارک کی رات کا تھا اس لئے محتمل ہے کہ یہ تہجد کی نماز ہو یا تراویح ہو) حضور اکرم ﷺ نے نماز شروع فرما کر یہ دعا پڑھی۔ اللہ اکبر ذوالملکوت والجبروت والکبریاء والعظمہ (اللہ جل جلالہ عم نوالہ کی ذات وصفات سب سے برتر ہے وہ ایسی ذات ہے جو بڑی بادشاہت والی ہے۔ بڑے غلبہ والی ہے بڑائی اور بزرگی و عظمت والی ذات ہے) پھر حضور اکرم ﷺ نے ( سورت فاتحہ پڑھ کر) سورت بقرہ تلاوت فرمائی پھر رکوع کیا۔ یہ رکوع قیام ہی جیسا تھا ( اس کے دو مطلب علماء فرماتے ہیں اور دونوں محتمل ہیں ایک تو یہ کہ رکوع تقریبا اتنا ہی طویل تھا کہ جتنا قیام۔ یعنی اگر قیام مثلا ایک گھنٹہ کا تھا تو تقریبا ایک ہی گھنٹہ کا رکوع بھی تھا۔ اس قول کے موافق اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر رکوع سجدہ نماز میں معمول سے زیادہ لمبا ہوجائے تو نماز ہوجاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ جیسے قیام معمول سے زائد تھا۔ ایسے ہی یہ رکوع بھی معمول رکوع سے طویل تھا۔ اس صورت میں قیام کے ایک گھنٹہ ہونے کی صورت میں رکوع اگر پندرہ منٹ کا بھی ہوگیا تو اس حدیث کا مصداق بن گیا۔ اس قول کے موافق نماز اپنے عام معمول کے موافق رہی یعنی جو رکن لمبا ہوتا ہے جیسا کھڑا ہونا وہ لمبا رہا اور جو مختصر ہوتا تھا جیسے رکوع یا سجدہ وہ مختصر رہا البتہ ہر رکن عام نمازوں کے اعتبار سے بڑھا ہوا تھا۔ حضور اکرم ﷺ اپنے اس رکوع میں سبحان ربی العظیم سبحان ربی العظیم فرماتے رہتے۔ پھر رکوع سے سر مبارک اٹھا کر کھڑے ہوئے اور یہ کھڑا ہونا بھی رکوع ہی جیسا تھا۔ اس وقت لربی الحمد لربی الحمد فرماتے رہے پھر سجدہ ادا کیا اور وہ سجدہ بھی کھڑے ہونے کے برابر ہی تھا۔ اس میں سبحان ربی الاعلی سبحان ربی الاعلیٰ فرماتے رہے پھر سجدہ سے اٹھ کر بیٹھے یہ بھی سجدہ کی طرح طویل تھا اس میں حضور ﷺ رب اغفر لی رب اغفرلی فرماتے رہے۔ غرض سورت نساء، سورت مائدہ یا سورت انعام راوی کو ان اخیر کی دو سورتوں میں شک ہوگیا ہے کہ کونسی تھی لیکن اول کی تین محقق ہیں۔ غرض تینوں سورتیں وہ اور ان دونوں میں سے ایک سورت یہ چاروں سورتیں تلاوت فرمائیں۔