حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله عليه وسلم کَانَ يُسْدِلُ شَعَرَهُ وَکَانَ الْمُشْرِکُونَ يَفْرِقُونَ رُؤُوسَهُمْ وَکَانَ أَهْلُ الْکِتَابِ يُسْدِلُونَ رُؤُوسَهُمْ وَکَانَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْکِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْئٍ ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله عليه وسلم رَأْسَهُ
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں، حضور اقدس ﷺ اولاً بالوں کو بغیر مانگ نکال کے ویسے ہی چھوڑ دیا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے اور اہل کتاب نہیں نکالتے تھے۔ حضور اقدس ﷺ ابتداء ان امور میں جن میں کوئی حکم نازل نہیں ہوتا تھا اہل کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے تھے۔ لیکن اس کے بعد یہ منسوخ ہوگیا اس لئے حضور اقدس ﷺ مخالفتِ اہل کتاب کرنے لگے۔