حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُغَفَّلٍ يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم عَلَی نَاقَتِهِ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهُوَ يَقْرَأُ إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَکَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ فَقَرَأَ وَرَجَّعَ قَالَ وَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ لَوْلا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لأَخَذْتُ لَکُمْ فِي ذَلِکَ الصَّوْتِ أَوْ قَالَ اللَّحْنِ
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو فتح مکہ کے دن انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر پڑھتے دیکھا۔ حضور اقدس ﷺ ترجیع کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔ معاویہ بن قرہ (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں وہ) کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کے جمع ہوجانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس لہجہ میں پڑھ کر سناتا۔