حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَی بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الْمَدِينِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَجُلا جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم مَا عِنْدِي شَيْئٌ وَلَکِنِ ابْتَعْ عَلَيَّ فَإِذَا جَائَنِي شَيْئٌ قَضَيْتُهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ أَعْطَيْتُهُ فَمَّا کَلَّفَکَ اللَّهُ مَا لا تَقْدِرُ عَلَيْهِ فَکَرِهَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم قَوْلَ عُمَرَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْفِقْ وَلا تَخَفْ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلالا فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم وَعُرِفَ فِي وَجْهِهِ الْبِشْرَ لِقَوْلِ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ قَالَ بِهَذَا أُمِرْتُ
حضرت عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی ضرورت مند نے حضور اقدس ﷺ سے کچھ سوال کیا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس تو اس وقت کچھ موجود نہیں ہے۔ تم میرے نام سے خرید لو جب کچھ آجائے گا تو میں ادا کردوں گا۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ کے پاس جو کچھ تھا آپ ﷺ دے چکے ہیں (اور جو چیز آپ ﷺ کی قدرت میں نہیں ہے اس کا حق تعالیٰ شانہ نے آپ ﷺ کو مکلف نہیں بنایا) ۔ حضرت عمر (رض) کا یہ مقولہ نا گوار گزرا تو ایک انصاری صحابی (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جس قدر جی چاہے خرچ کیجئے اور عرش کے مالک سے کمی کا اندیشہ نہ کیجئے (کہ جو ذات پاک عرش بریں کی مالک ہے اس کے یہاں آپ ﷺ کو دینے کیا کمی ہوسکتی ہے) ۔ حضور اکرم ﷺ کو انصاری کا یہ کہنا بہت پسند آیا اور حضور اکرم ﷺ نے تبسم فرمایا جس کا اثر چہرہ انور پر ظاہر ہوتا تھا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ نے مجھے اس کا حکم فرمایا ہے۔