عن سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم إِنَّ لِي أَسْمَائً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْکُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ
جبیر بن مطعم (رض) کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بہت سے نام ہیں منجملہ ان کے محمد اور احمد ہے اور ماحی ہے جس کے معنی مٹانے والے کے ہیں حق تعالیٰ شانہ نے میرے ذریعے کفر کو مٹایا ہے اور ایک نام حاشر ہے کہ حق تعالیٰ شانہ قیامت میں حشر کے لئے سب سے پہلے آپ ﷺ کو اٹھائیں گے اور تمام امت حضور اکرم ﷺ کے بعد حشر کی جائے گی۔ اور اٹھائی جائے گی۔ تو گویا حضور ﷺ تمام امت کے حشر کا سبب بنے اور ایک نام میرا عاقب ہے جس کے معنی پیچھے آنے کے ہیں۔ حضور اقدس ﷺ سب انبیاء سے پیچھے تشریف لائے ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی نہیں آئے گا۔