حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلائِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُلَيْکِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم شَيْئًا مَا نَسِيتُهُ قَالَ مَا قَبَضَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِهِ
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کے وصال کے وقت آپ ﷺ کے دفن میں صحابہ (رض) کا اختلاف ہوا ( کسی نے مسجد نبوی کو پسند کیا اور کسی نے آپ ﷺ کے صحابہ (رض) کے قرب کی وجہ سے بقیع کو کسی کا خیال جد اعلیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مدفن پر پہنچانے کا ہوا تو کسی کا وطن اصلی مکہ مکرمہ واپس لانے کا۔ غرض مختلف رائیں ہو رہی تھیں) کہ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ میں نے خود حضور ﷺ سے ایک بات سنی ہے جو مجھے خوب یاد ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا وصال اسی جگہ ہوتا ہے جہاں ان کا پسندیدہ دفن ہو۔ اس لئے حضور اکرم ﷺ کو آپ کے وصال ہی کی جگہ دفن کرنا چاہئے۔