حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا کَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ أَضَائَ مِنْهَا کُلُّ شَيْئٍ فَلَمَّا کَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا کُلُّ شَيْئٍ وَمَا نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا مِنَ التُّرَابِ وَإِنَا لَفِي دَفْنِهِ صلی الله عليه وسلم حَتَّی أَنْکَرْنَا قُلُوبَنَا
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جس روز حضور اقدس ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے مدینہ کی ہر چیز منور اور روشن بن گئی تھی ( اور جب انوار کی کثرت ہوتی ہے تو اس قسم کی روشنی محسوس بھی ہوجاتی ہے۔ رمضان المبارک کی اندھیری راتوں میں بسا اوقات انوار کی کثرت سے روشنی ہوجاتی ہے اور جس دن حضور اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو مدینہ کی ہر چیز تاریک بن گئی تھی ہم لوگ حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد مٹی سے ہاتھ بھی نہ جھاڑنے پائے تھے کہ ہم نے اپنے قلوب میں تغیر پایا تھا۔