حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنِ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو رِمْثَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله عليه وسلم مَعَ ابْنٍ لِي فَقَالَ ابْنُکَ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ قَالَ لاَ يَجْنِي عَلَيْکَ وَلا تَجْنِي عَلَيْهِ قَالَ وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَقَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا أَحْسَنُ شَيْئٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَفْسَرُ لأَنَّ الرُّوَايَاتِ الصَّحِيحَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْلُغِ الشَّيْبَ وَأَبُو رِمْثَةَ اسْمُهُ رِفَاعَةُ بْنُ يَثْرِبِيٍّ التَّيْمِيُّ
ابو رمثہ کہتے ہیں، کہ میں حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں اپنے لڑکے کو ساتھ لے کر حاضر ہوا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ کیا یہ تیرا بیٹا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ہاں حضرت ! یہ میرا بیٹا ہے۔ آپ ﷺ اس کے گواہ رہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس کی جنایت کا بدلہ اس پر نہیں (فائدہ میں اس کی وضاحت آئے گی) ابورمثہ کہتے ہیں، کہ اس وقت میں نے حضور ﷺ کے بعض بالوں کو سرخ دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں، کہ خضاب کے بارے میں یہ حدیث سب سے زیادہ صحیح اور واضح ہے۔