حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ عِمَامَةً أَوْ قَمِيصًا أَوْ رِدَائً ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا کَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُکَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ
ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں، کہ جب حضور اقدس ﷺ کوئی کپڑا پہنتے تو اظہار مسرت کے طور پر اس کا نام لیتے۔ مثلا اللہ تعالیٰ نے یہ کرتہ مرحمت فرمایا۔ ایسے ہی عمامہ، چادر وغیرہ۔ پھر یہ دعا پڑھتے۔ اللھم لک الحمد کما کسوتنیہ اسالک خیرہ وخیر ماصنع لہ واعوذ بک من شرہ وشر ماصنع لہ (ترجمہ) اے اللہ تیرے ہی لئے تمام تعریفیں ہیں۔ اور اس کپڑے کے پہننے پر تیرا ہی شکر ہے۔ یا اللہ تجھ ہی سے اس کپڑے کی بھلائی چاہتا ہوں (کہ خراب نہ ہو ضائع نہ ہو) اور ان مقاصد کی بھلائی اور خوبی چاہتا ہوں۔ جن کے لئے یہ کپڑا بنایا گیا ہے اور تجھ ہی سے اس کپڑے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور ان چیزوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جن کے لئے یہ کپڑا بنایا گیا ہے۔ کپڑے کی بھلائی برائی تو ظاہر ہے اور جس چیز کے لئے بنایا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ گرمی، سردی اور زینت وغیرہ جس غرض کے لئے پہنا گیا اس کی بھلائی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا میں استعمال ہو عبادت پر معین ہو اور اس کی برائی یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں استعمال ہو، عجب وتکبر وغیرہ پیدا کرے۔