۱۰۲۱ : وَحَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ، قَالَ ثَنَا الْأَوْزَاعِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ نَہِیْکُ بْنُ یَرِیْمَ، عَنْ مُغِیْثِ بْنِ سُمَیٍّ أَنَّہٗ قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ ابْنِ الزُّبَیْرِ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ فَالْتَفَتَ إِلَیَّ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ فَقُلْتُ : مَا ھٰذَا؟ فَقَالَ : ھٰذِہٖ صَلَاتُنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِیْ بَکْرٍ، وَمَعَ عُمَرَ فَلَمَّا قُتِلَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَسْفَرَ بِہَا عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
١٠٢١: مغیث بن سمی کہتے ہیں کہ میں نے ابن الزبیر کے ساتھ صبح کی نماز غلس میں پڑھی میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو مخاطب ہو کر پوچھا یہ کیا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا ہماری نماز جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر و عمر (رض) کے ساتھ اسی طرح تھی جب عمر (رض) شہید کردیئے گئے تو عثمان (رض) اسفار میں پڑھنے لگے۔
تخریج : ابن ماجہ فی الصلاۃ باب ٢‘ نمبر ٦٧١۔