۱۰۲۹ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ إِسْحَاقَ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ یَزِیْدَ یَقُوْلُ : حَجَّ عَبْدُ اللّٰہِ، فَأَمَرَنِیْ عَلْقَمَۃُ أَنْ أَلْزَمَہٗ .فَلَمَّا کَانَتْ لَیْلَۃُ مُزْدَلِفَۃَ، وَطَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ : " أَقِمْ " فَقُلْتُ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، إِنَّ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ، مَا رَأَیْتُک تُصَلِّی فِیْہَا قَطُّ .فَقَالَ : (إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ لَا یُصَلِّیْ یَعْنِیْ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ، إِلَّا ھٰذِہِ السَّاعَۃَ فِیْ ھٰذَا الْمَکَانِ، مِنْ ھٰذَا الْیَوْمِ .قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : ہُمَا صَلَاتَانِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِہِمَا، صَلَاۃُ الْمَغْرِبِ بَعْدَمَا یَأْتِی النَّاسُ مِنْ مُزْدَلِفَۃَ، وَصَلَاۃُ الْغَدَاۃِ، حِیْنَ یَنْزِعُ الْفَجْرُ، رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ) .
١٠٢٩: عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ نے حج کیا مجھے علقمہ نے حکم دیا کہ میں ان کے ساتھ رہوں جب مزدلفہ کی رات آئی اور فجر طلوع ہوئی تو فرمانے لگے اقامت کہو میں نے کہا اے ابو عبدالرحمن اس وقت میں تو میں نے آپ کو کبھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تو فرمانے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ نماز اس وقت اس جگہ آج کے دن اسی وقت میں پڑھتے تھے عبداللہ کہنے لگے یہ دو نمازیں اپنے وقت سے پھیر دی گئی ہیں ایک نماز مغرب ہے جبکہ لوگ مزدلفہ پہنچ جائیں اور دوسری نماز فجر جبکہ پو پھوٹے میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسا ہی کرتے پایا۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٩٧؍٩٩‘ نسائی فی المناسک باب ٢٠٧۔