hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1033

.

الطحاوي

1033
Al Tahawi
۱۰۳۳ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ وَابْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَا : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ : ثَنَا عَوْفٌ عَنْ سَیَّارِ بْنِ سَلَامَۃَ، قَالَ : (دَخَلْتُ مَعَ أَبِیْ عَلٰی أَبِیْ بَرْزَۃَ فَسَأَلَہٗ أَبِیْ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : کَانَ یَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ وَالرَّجُلُ یَعْرِفُ وَجْہَ جَلِیْسِہٖ، وَکَانَ یَقْرَأُ فِیْہَا بِالسِّتِّیْنَ إِلَی الْمِائَۃِ) .قَالُوْا : فَفِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ مَا یَدُلُّ عَلٰی تَأْخِیْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِیَّاہَا، وَعَلٰی تَنْوِیْرِہٖ بِہَا، وَفِیْ حَدِیْثِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ سَائِرِ الْأَیَّامِ صَلَاۃَ الصُّبْحِ فِیْ خِلَافِ الْوَقْتِ الَّذِیْ یُصَلِّیْ فِیْہِ بِمُزْدَلِفَۃَ، وَأَنَّ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ تُحَوَّلُ عَنْ وَقْتِہَا .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : وَلَیْسَ فِیْ شَیْئٍ مِنْ ھٰذِہِ الْآثَارِ، وَلَا فِیْمَا تَقَدَّمَہَا، دَلِیْلٌ عَلَی الْأَفْضَلِ مِنْ ذٰلِکَ مَا ہُوَ؟ لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ قَدْ فَعَلَ شَیْئًا، وَغَیْرُہٗ أَفْضَلُ مِنْہُ، عَلَی التَّوْسِعَۃِ مِنْہُ عَلٰی أُمَّتِہٖ، کَمَا تَوَضَّأَ مَرَّۃً مَرَّۃً، وَکَانَ وُضُوْئُ ہٗ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ .فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ فِیْمَا رُوِیَ عَنْہُ سِوٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ، ہَلْ فِیْہَا مَا یَدُلُّ عَلَی الْفَضْلِ فِیْ شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ؟
١٠٣٣: سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابو برزہ (رض) کے پاس گیا ان سے میرے والد نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے سلسلہ میں دریافت کیا تو کہنے لگے جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کے چہرے کو پہچانتا تھا آپ نماز فجر میں ساٹھ سے سو تک آیات کی تلاوت فرماتے۔ انھوں نے کہا ان روایات میں ایسی دلالت موجود ہے جو آپ کے خوب روشنی میں پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں چنانچہ عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت میں ہے کہ وہ تمام دنوں میں نماز صبح اس نماز سے مختلف وقت میں پڑھتے جو مزدلفہ میں پڑھی جاتی ہے اور فرماتے کہ یہ نماز اپنے وقت سے ہٹائی گئی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں ان روایات میں اور ان سے پہلی روایات میں افضلیت پر دلالت کرنے والی کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی کیونکہ یہ کہنا درست ہے کہ آپ نے کوئی فعل امت پر وسعت کے لیے کیا ہو اور دوسرا فعل اس سے افضل ہو جیسا کہ آپ نے ایک ایک مرتبہ اعضاء کو وضو میں دھویا حالانکہ تین دفعہ اعضاء کو وضو میں دھونا افضل ہے ‘ اسی بات کے پیش نظر ہم نے یہ چاہا کہ ان کے علاوہ آثار پر نظر ڈالیں کہ کیا کوئی ایسے آثار پائے جاتے ہیں جو فضیلت پر دلالت کرنے والے چنانچہ یہ روایات مل گئیں۔
تخریج : بخاری فی مواقیت الصلاۃ باب ١٣‘ مسلم فی المساجد و مواضع الصلاۃ نمبر ٢٣٥۔
حاصل روایات : یہ آثار صاف دلالت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تاخیر سے نماز فجر ادا فرماتے تھے اور عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت تو خاص طور پر ظاہر کر رہی ہے تمام ایام میں فجر ایسے وقت میں ادا فرماتے کہ مزدلفہ میں اس کے خلاف ادا فرماتے تھے اور عبداللہ کہتے ہیں کہ یہ دو نمازیں اپنے وقت سے ہٹا دی گئی ہیں پس اس سے ثابت ہوا کہ مزدلفہ کی صبح کے علاوہ نماز فجر کو چاندنے میں پڑھنا افضل ہے۔
قال ابو جعفر سے امام طحاوی (رح) کا محاکمہ :
ان آثار میں اور ان سے پہلے غلس کے سلسلہ میں مروی آثار میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ ان میں کون سی افضل ہے بس اس قدر ثابت ہے کہ غلس میں نماز ادا فرمائی اور اسفار میں بھی نماز ادا فرمائی کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ آپ نے کسی فعل کو بیان جواز کے لیے کیا اور دوسرا فعل اس سے افضل ہو جیسا کہ ایک ایک مرتبہ اور دو دو مرتبہ وضو کرنا توسع کے لیے تھا جبکہ تین مرتبہ کرنا افضل فعل تھا۔
فاردنا ان ننظر سے ایسے آثار کی نشان دہی کریں گے جو افضلیت پر دلالت کرنے والے ہوں چنانچہ ایسے آثار مل گئے جو اسفار کی افضلیت پر دلالت کرتے ہیں۔