hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1053

.

الطحاوي

1053
Al Tahawi
۱۰۵۳ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ، قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ یُحَدِّثُ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ سَبْرَۃَ، قَالَ : صَلّٰی بِنَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَلَمَّا رُوِیَ مَا ذَکَرْنَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ حَدِیْثِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ قِرَائَ تَہُ تِلْکَ کَانَتْ قِرَائَ ۃً بَطِیْئَۃً لَمْ نَرَ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ أَنْ یَکُوْنَ دُخُوْلُہٗ فِیْہَا کَانَ إِلَّا بِغَلَسٍ، وَلَا خُرُوْجُہٗ کَانَ مِنْہَا إِلَّا وَقَدْ أَسْفَرَ إِسْفَارًا شَدِیْدًا .وَکَذٰلِکَ کَانَ یَکْتُبُ إِلٰی عُمَّالِہٖ.
١٠٥٣: ابراہیم تیمی نے حصین بن سبرہ سے روایت نقل کی ہے کہ ہمیں حضرت عمر (رض) نے نماز پڑھائی اور پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں جب حضرت عمر (رض) سے یہ روایات نقل ہوئیں اور عبداللہ بن عامر (رض) کی روایت میں ہے کہ آپ (رض) ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرتے ‘ ہمارے نزدیک آپ (رض) اندھیرے میں نماز شروع کرتے اور نہایت سپیدے میں اس سے فارغ ہوتے اور اپنے عمال کو بھی یہی لکھتے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍٣١٢۔
حاصل روایات : ان تمام روایات سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ آپ نماز صبح میں طویل قراءت فرماتے سورة یوسف کہف اکثر پڑھتے اور عبداللہ بن عامر کی روایت سے قراءت کی کیفیت بھی ظاہر ہوگئی کہ ترتیل سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے اور یہ بات ظاہر ہے کہ اتنی طویل قراءت تب ہوسکتی ہے جب کہ غلس میں شروع کر کے اسفار میں نماز کو ختم کیا جائے اس مسلسل فعل سے ثابت ہوا کہ افضل یہی ہے تبھی آپ نے اس کو معمول بنایا اور اس پر واضح دلالت معلوم کرنی ہو تو وہ بھی یہی ثابت ہوگی آپ اپنے عمال کی طرف یہ لکھتے تھے۔