۱۰۵۵ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ أَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمُہَاجِرِ، عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِثْلَہٗ .أَفَلَا تَرَاہُ یَأْمُرُہُمْ أَنْ یَکُوْنَ دُخُوْلُہُمْ فِیْہَا بِغَلَسٍ، وَأَنْ یُطِیْلُوا
الْقِرَائَ ۃَ فَکَذٰلِکَ عِنْدَنَا، أَرَادَ مِنْہُ أَنْ یُدْرِکُوا الْاِسْفَارَ وَکَذٰلِکَ کُلُّ مَنْ رَوَیْنَا عَنْہُ فِیْ ھٰذَا شَیْئًا سِوٰی عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ کَانَ ذَہَبَ إِلٰی ھٰذَا الْمَذْہَبِ أَیْضًا.
١٠٥٥: یزید بن ہارون کہتے ہیں کہ ہمیں ابن عون نے بتلایا اور انھوں نے محمد بن سیرین سے انھوں نے مہاجر سے انھوں نے حضرت عمر (رض) سے اسی طرح نقل فرمایا۔ کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ آپ ان کو اندھیرے میں نماز شروع کرنے کا حکم دیتے اور قراءت کو لمبا کرنے کے لیے کہتے۔ ہمارے ہاں آپ کا مقصد یہی تھا کہ وہ سپیدے کو پالیں۔ اسی طرح وہ تمام حضرات جن کے بارے میں ہم نے کوئی روایت کی ہے سوائے عمر (رض) کے کہ وہ اس راہ پر بہت دور جاتے۔
تخریج : عبدالرزاق ١؍٥٧٠۔
تا ٔثر :
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نماز میں منہ اندھیرے میں داخل ہوتے اور قراءت کو طویل کرتے تاکہ اسفار کو پاسکیں عمر (رض) کے علاوہ بھی جن صحابہ (رض) سے ہم نے روایت لی ہے ان کا یہی مقصود تھا روایات ابوبکر (رض) ملاحظہ ہوں۔