۱۰۶۰ : حَدَّثَنَا أَبُو الدَّرْدَائِ، ہَاشِمُ بْنُ مُحَمَّدِ ڑ الْأَنْصَارِیُّ، قَالَ : ثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِیْ إِیَاسٍ قَالَ : ثَنَا إِسْرَائِیْلُ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ، قَالَ : کُنَّا نُصَلِّیْ مَعَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَکَانَ یُسْفِرُ بِصَلَاۃِ الصُّبْحِ .فَقَدْ عَقَلْنَا بِھٰذَا أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ کَانَ یُسْفِرُ، فَعَلِمْنَا بِذٰلِکَ أَنَّ خُرُوْجَہٗ مِنْہَا کَانَ حِیْنَئِذٍ، وَلَمْ یَذْکُرْ فِیْ ھٰذِہِ الْأَحَادِیْثِ دُخُوْلَہٗ فِیْہَا فِیْ أَیِّ وَقْتٍ کَانَ، فَذٰلِکَ عِنْدَنَا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ- عَلٰی مِثْلِ مَا رُوِیَ عَنْ غَیْرِہٖ مِنْ أَصْحَابِہٖ .وَقَدْ کَانَ یُفْعَلُ أَیْضًا مِثْلُ ھٰذَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
١٠٦٠: عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابن مسعود (رض) کے ساتھ نماز ادا کرتے وہ نماز صبح اسفار میں ادا کرتے۔ اس اثر سے ہم نے معلوم کرلیا کہ عبداللہ خوب سپیدے میں نماز پڑھتے اور اس سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ یہ نماز سے ان کی فراغت کا وقت تھا مگر نماز میں ان کے داخلے کا وقت مذکور نہیں اور یہ چیز ہمارے ہاں (واللہ اعلم) اسی طرح ہے جیسے ان کے علاوہ صحابہ (رض) سے مروی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں اسی طرح کیا جاتا تھا جیسا کہ ان روایات میں ہے۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلاۃ ١؍٣٢١۔
حاصل روایات : اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ اسفار میں نماز فجر پڑھتے پس اس سے ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ وہ اسفار میں فارغ ہوتے تھے ان کا نماز میں داخل ہونا احادیث میں مذکور نہیں کہ کس وقت تھا خلفاء راشدین کے طرز عمل سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی طویل قراءت کرتے اور غلس میں شروع کر کے اسفار میں ختم کرتے تھے۔