۱۰۶۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْمُقَدَّمِیُّ، قَالَ : ثَنَا فُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ خُثَیْمِ بْنِ عِرَاکٍ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ مِثْلَہٗ، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ فَاسْتَخْلَفَ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَۃَ الْغِفَارِیَّ فَصَلَّیْتُ خَلْفَہٗ .فَھٰذَا سِبَاعُ بْنُ عُرْفُطَۃَ قَدْ کَانَ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاسْتِخْلَافِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِیَّاہُ، یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الصُّبْحِ ھٰکَذَا، یُطِیْلُ فِیْہَا الْقِرَائَ ۃَ، حَتّٰی یُصِیْبَ فِیْہَا التَّغْلِیْسَ وَالْاِسْفَارَ جَمِیْعًا .وَقَدْ رُوِیَ أَیْضًا، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ مِنْ ھٰذَا شَیْئٌ .
١٠٦٢: عراک بن مالک نے ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ پر سباع بن عرفطہ غفاری کو حاکم مقرر کر رکھا تھا میں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی۔ یہ سباع ابن عرفطہ ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نائب کی حیثیت سے مدینہ منورہ میں لوگوں کو نماز پڑھاتے اور اس میں قراءت طویل کرتے تاکہ غلس اور اسفار دونوں کو پالیں اور حضرت ابو الدرداء (رض) سے بھی اسی سلسلے میں روایت آئی ہے۔
تخریج : البیہقی ٢؍٤٥٤۔
نوٹ : یہ سباع بن عرفطہ زمانہ نبوت میں آپ کے نائب کی حیثیت سے لوگوں کو صبح کی نماز اس طرح پڑھا رہے ہیں کہ قراءت کو طویل کرتے ہیں تاکہ تغلیس و اسفار ہر دو کو پالیں۔