hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1064

.

الطحاوي

1064
Al Tahawi
۱۰۶۴ : قَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُمَرَ الْحَوْضِیُّ، قَالَ ثَنَا مُرَجَّی بْنُ رَجَائٍ، قَالَ : ثَنَا دَاوٗدُ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ (أَوَّلُ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاۃُ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِیْنَۃَ وَصَلَ إِلٰی کُلِّ صَلَاۃٍ مِثْلَہَا غَیْرَ الْمَغْرِبِ فَإِنَّہٗ وِتْرٌ، وَصَلَاۃُ الصُّبْحِ لِطُوْلِ قِرَائَ تِہَا وَکَانَ اِذَا سَافَرَ عَادَ إِلٰی صَلَاتِہِ الْأُوْلٰی) .فَأَخْبَرَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْ قَبْلَ أَنْ یُتِمَّ الصَّلَاۃَ، عَلٰی مِثَالِ مَا یُصَلِّیْ اِذَا سَافَرَ وَحُکْمُ الْمُسَافِرِ تَخْفِیْفُ الصَّلَاۃِ، ثُمَّ أُحْکِمَ بَعْدَ ذٰلِکَ، فَزِیْدَ فِیْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، وَأُمِرَ بِإِطَالَۃِ بَعْضِہَا .فَیَجُوْزُ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ أَنْ یَکُوْنَ مَا کَانَ یَفْعَلُ مِنْ تَغْلِیْسِہٖ بِہَا، وَانْصِرَافِ النِّسَائِ مِنْہَا وَلَا یُعْرَفْنَ عَنِ الْغَلَسِ کَانَ ذٰلِکَ فِی الْوَقْتِ الَّذِیْ کَانَ یُصَلِّیْہَا فِیْہِ عَلٰی مِثْلِ مَا یُصَلِّیْ فِیْہِ الْآنَ فِی السَّفَرِ ثُمَّ أُمِرَ بِإِطَالَۃِ الْقِرَائَ ۃِ فِیْہَا وَأَنْ یَکُوْنَ مَفْعُوْلَہٗ فِی الْحَضَرِ بِخِلَافِ مَا یَفْعَلُ فِی السَّفَرِ مِنْ إطَالَۃِ ھٰذِہٖ، وَتَخْفِیْفِ ھٰذِہٖ وَقَالَ : (أَسْفِرُوْا بِالْفَجْرِ) أَیْ أَطِیْلُوْا الْقِرَائَ ۃَ فِیْہَا .لَیْسَ ذٰلِکَ عَلٰی أَنْ یَدْخُلُوْا فِیْہَا فِیْ آخِرِ وَقْتِ الْاِسْفَارِ وَلَکِنْ یَخْرُجُوْا مِنْہَا فِیْ وَقْتِ الْاِسْفَارِ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ نَسْخُ مَا رَوَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بِمَا ذَکَرْنَا، مَعَ مَا قَدْ دَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا مِنْ فِعْلِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْدِہٖ فِیْ إصَابَتِہِمَ الْاِسْفَارَ فِیْ وَقْتِ انْصِرَافِہِمْ مِنْہَا، وَاتِّفَاقِہِمْ عَلٰی ذٰلِکَ .حَتّٰی لَقَدْ قَالَ اِبْرَاہِیْمُ النَّخَعِیُّ۔
١٠٦٤: مسروق نے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ پہلے نماز دو دو رکعت فرض ہوئی جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو ہر نماز کے ساتھ اس کی مثل ملا دی گئی دو کی چار رکعت ہوگئیں البتہ مغرب کا طاق عدد باقی رہا اور نماز صبح بھی طویل قراءت کی وجہ سے اسی طرح باقی رہی جب آپ سفر فرماتے تو پہلی نماز کی طرف لوٹ آتے یعنی دو دو رکعت پڑھتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے اس روایت میں یہ اطلاع دی ہے کہ نماز کے مکمل کرنے سے پہلے آپ اس طرح نماز ادا فرماتے جیسے کہ کوئی حالت سفر میں ہو اور مسافر کا حکم نماز میں تخفیف ہی کا ہے پھر بعض نمازوں میں اضافے کا حکم ہوا اور بعض میں طویل قراءت کا پس اس سے یہ کہنا درست ہوگیا (واللہ اعلم) کہ آپ جو کچھ غلس میں کرتے تھے جبکہ عورتیں نماز سے واپسی پر اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں یہ اس وقت کی بات ہے جیسے اب سفر میں نماز پڑھی جاتی ہے پھر لمبی قراءت کا حکم ہوا اور حضر کا عمل طویل قراءت کے ذریعے سفر سے مختلف ہوگیا اور ارشاد فرمایا : ” اسفروا بالفجر “ یعنی فجر میں طویل قراءت کرو یہ مطلب نہیں ہے کہ آخری وقت میں نماز میں داخل ہو بلکہ روشنی کے وقت نکلنے کا حکم ہے پس اس سے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی اس روایت کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا ہے جو ہم نے پہلے ذکر کی اور اس کے ساتھ ساتھ اصحاب رسول کے فعل سے نماز سے لوٹنے کے وقت بالاتفاق اسفار کو پالینا ظاہر ہوتا ہے یہاں تک کہ ابراہیم نخعی نے یہ کہا۔
تخریج : مسندالطیالسی ١؍١٢٩‘ (باختلاف یسیر) بیہقی ١؍٥٣٣۔
حاصل روایات : اس روایت میں حضرت عائشہ (رض) نے اطلاع دی ہے کہ نماز کی رکعات کے تکمیل تک پہنچنے سے پہلے آپ اسی طرح نماز پڑھتے تھے جیسے مسافر پڑھتا ہے اور مسافر کا حکم تخفیف صلوۃ کا ہے پھر بعض نمازوں کی عدد رکعات میں اضافہ کیا گیا جبکہ دوسری نمازوں میں طوالت قراءت کا حکم دیا گیا پس اس سے یہ نتیجہ نکالنا آسان ہے کہ عورتوں کا تغلیس میں اس حالت میں لوٹنا کہ پہچان نہ ہو یہ اس وقت ہو جبکہ نماز کی رکعات دو دو ہوں پھر قراءت کی طوالت کا حکم دیا گیا تاکہ حضر کا فعل سفر کے خلاف ہو اور سفر میں نماز کی تخفیف کے ساتھ قراءت کی تخفیف ہو اور فرمایا اسفر وابالفجر یعنی اس میں قراءت کو طویل کرو فجر کی نماز کو طول قراءت کی وجہ سے بعینہٖ قران بمعنی قراءت قرار دیا گیا ہے اور یہ اس طرح نہیں کہ وہ اسفار کے آخری وقت میں داخل ہوں بلکہ اسفار کے وقت فارغ ہوں۔ پس اس سے روایت عائشہ (رض) کا نسخ ثابت ہو رہا ہے اور اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فعل بھی اس کے خلاف ہے وہ تو اسفار کو اختیار کرنے والے تھے اور اسفار میں بالاتفاق نماز سے لوٹنے والے تھے۔