۱۰۶۶ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنِ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَجِیْرِ) .
١٠٦٦: عروہ نے اسامہ بن زید (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز گرمی میں پڑھتے تھے۔
تخریج : مسند احمد ٥؍٢٠٦۔
خلاصہ الزام : سردیوں میں سب کے ہاں بالاتفاق تعجیل ظہر ہی افضل ہے البتہ گرمیوں کے متعلق اختلاف ہے امام شافعی و لیث علماء عراق گرمیوں میں بھی تعجیل ظہر کے قائل ہیں اور افضل مانتے ہیں۔
نمبر ٢: امام ابوحنیفہ ‘ مالک ‘ احمد (رح) گرمیوں میں ابراد یعنی ٹھنڈا کر کے پڑھنے کے قائل ہیں اور اس کو افضل کہتے ہیں۔