۱۰۹ : حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ ثَنَا الْفِرْیَابِیُّ قَالَ ثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ قَالَ ثَنَا عَلْقَمَۃُ بْنُ خَالِدٍ ؛ أَوْ خَالِدُ ابْنُ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ ( عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ ھٰذَا طَہُوْرُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ).
١٠٩ : عبدخیر حضرت علی (رض) کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے تین تین مرتبہ وضو کیا اور پھر فرمایا یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو ہے۔
اللغات : طھور۔ یہاں وضو کے معنی میں ہے۔ اس کا معنی طہارت و پاکیزگی بھی ہے۔
تخریج : نسائی فی الطہارۃ باب ٧٣‘ مسند احمد ١؍١٣٥‘ ابن ابی شیبہ ١؍٨ ترمذی فی الطھارۃ باب ٣٤‘ حدیث نمبر ٤٤‘ مگر الفاظ یہ ہیں۔ عن علی ان النبی ا توضاء ثلاثا ثلاثاً “
خلاصہ الزام : وضو کے اعضاء کو دھونے کے متعلق دو قول ہیں۔
نمبر ١: تین مرتبہ دھونا مسنون ہے اس سے کم خلاف سنت ہے۔
نمبر ٢: ائمہ ثلاثہ اور جمہور کے ہاں تین مرتبہ مسنون دو مرتبہ مباح اور ایک مرتبہ فرض ہے۔