۱۱۰۱ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : ثِنَا أَبِیْ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الْأَنْصَارِیِّ، ثُمَّ الظَّفَرِیِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتہ یَقُوْلُ : (مَا کَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِصَلَاۃِ الْعَصْرِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنْ کَانَ أَبْعَدَ رَجُلَیْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَأَبُوْ لُبَابَۃَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَخُو بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَأَبُوْ عَبْسِ بْنُ خَیْرٍ أَحَدُ بَنِیْ حَارِثَۃَ دَارُ أَبِیْ لُبَابَۃَ بِقُبَائَ، وَدَارُ أَبِیْ عَبْسٍ فِیْ بَنِیْ حَارِثَۃَ، ثُمَّ إِنْ کَانَ لَیُصَلِّیَانِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، ثُمَّ یَأْتِیَانِ قَوْمَہُمَا وَمَا صَلَّوْہَا لِتَبْکِیْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِہَا) .
١١٠١: عاصم بن عمر بن قتادہ انصاری ظفری نے حضرت انس بن مالک (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر عصر کی نماز میں کوئی عجلت کرنے والا نہ تھا انصار میں سب سے زیادہ مسجد نبوی سے دور رہنے والے دو انصاری تھے۔ ایک ابو لبابہ بن عبدالمنذر جو کہ بنی عمرو بن عوف سے تھے اور دوسرے ابو عبس بن خیر جن کا تعلق بنی حارثہ سے تھا ابو لبابہ کا مکان قباء میں اور ابو عبس کا بنو حارثہ میں تھا یہ دونوں حضرات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز عصر ادا کرتے پھر اپنے قبیلہ میں واپس لوٹتے تو ابھی وہ لوگ نماز عصر سے فارغ نہ ہوئے ہوتے تھے کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز جلد ادا فرما لیتے تھے۔
تخریج : مسند احمد ٣؍٢٣١۔
خلاصہ الزام : نماز عصر میں تاخیر یا تعجیل افضل ہے اس میں مذاہب ائمہ اس طرح ہیں۔
نمبر ١: امام شافعی ‘ مالک ‘ احمد ‘ ابن مبارک و اوزاعی (رح) کے ہاں عصر میں تعجیل افضل ہے۔
نمبر ٢: امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد ‘ ابراہیم نخعی (رح) کے ہاں اصفرار شمس سے پہلے پہلے تاخیر افضل ہے۔