۱۱۰۶ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا نُعَیْمٌ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ، قَالَ : أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ أَنَسٍ، (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ، فَیَذْہَبُ الذَّاہِبُ إِلَی الْعَوَالِیْ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ) .قَالَ الزُّہْرِیّ : وَالْعَوَالِیْ، عَلَی الْمِیْلَیْنِ وَالثَّلَاثَۃِ وَأَحْسِبُہُ قَالَ : وَالْأَرْبَعَۃِ .
١١٠٦: زہری نے حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت نقل کی ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز ادا کرتے پھرجانے والا عوالی میں پہنچ جاتا اس حال میں کہ سورج ابھی اونچا ہوتا تھا زہری کہتے ہیں عوالی مدینہ سے دو یا تین یا چار میل یہ فاصلے کا فرق علاقے کی ابتداء اور انتہاء کے اعتبار سے ہے عوالی کا آخری کنارہ چار میل ہے راوی نے تین یا چار بولا۔
تخریج : ابن ماجہ فی الصلاۃ باب ٥۔