۱۱۱۷ : حَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ؟ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیْہِ عَنْ (عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی صَلَاۃَ الْعَصْرِ، وَالشَّمْسُ طَالِعَۃٌ فِیْ حُجْرَتِیْ) .قِیْلَ لَہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ، وَقَدْ أَخَّرَ الْعَصْرَ لِقِصَرِ حُجْرَتِہَا، فَلَمْ یَکُنِ الشَّمْسُ تَنْقَطِعُ مِنْہُمَا إِلَّا بِقُرْبِ غُرُوْبِہَا فَلَا دَلَالَۃَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ عَلٰی تَعْجِیْلِ الْعَصْرِ .وَذَکَرَ فِیْ ذٰلِکَ مَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَنِیِّ بْنُ أَبِیْ عَقِیْلٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ح .
١١١٧: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز عصر ادا فرماتے جبکہ سورج میرے حجرہ میں چمکنے والا ہوتا۔ تو ان سے ہم جواب میں یہ عرض کریں گے کہ عین ممکن ہے کہ آپ نے کبھی عصر کو کچھ مؤخر کیا ہو کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کا حجرہ چھوٹا تھا تو سورج کی شعائیں غروب کے قریب تک اس سے منقطع نہیں ہوتی تھیں۔ پس ان روایات میں عصر کو جلدی پڑھنے میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں یہ روایت بھی پیش کی جاتی ہے۔
تخریج : تخریج روایت ١١١٥ کو ملاحظہ فرمائیں۔
الجواب : بات بالکل ایسے ہی ہے جیسا کہ روایت میں وارد ہے حضرت عائشہ (رض) کے حجرہ کی دیواریں بہت پست تھیں اور باہر صحن کی دیواروں کا بھی حال یہی تھا سورج کی دھوپ گھر سے غروب کے قریب منقطع ہوتی اور اس وقت سایہ گھر میں پھیلتا تھا پس اس سے تعجیل عصر کی افضلیت پر استدلال درست نہیں مندرجہ بالا تینوں روایات میں قریب قریب ایک ہی بات کہی گئی ہے کہ دھوپ حجرہ مبارک میں ہوتی تھی اور دیواروں پر سایہ نمایاں نہ ہوتا تھا اس میں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ مدینہ منورہ کا قبلہ جنوبی ہے اور حجرات امہا ت المؤمنین ٹھیک مشرقی رخ پر واقع تھے جس سے دن کے آخری حصہ تک دھوپ کا رہنا لازمی امر تھا۔ فتفکر و تدبر۔
اشکال نمبر ٣: شعبہ نے یسار بن سلامہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز عصر ادا فرماتے اس سے فراغت پا کر آدمی مدینہ منورہ شہر کے آخری کنارے تک جاسکتا تھا اور سورج اپنی چمک کے ساتھ ہوتا تھا۔ روایت ملاحظہ ہو۔