hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1122

.

الطحاوي

1122
Al Tahawi
۱۱۲۲ : حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِیُّ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ : أَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ قَالَ : إِنَّمَا سُمِّیَتَ الْعَصْرَ لِتَعَصُّرٍ .فَأَخْبَرَ أَبُوْ قِلَابَۃَ أَنَّ اسْمَہَا ھٰذَا إِنَّمَا ہُوَ لِأَنَّ سَبِیْلَہَا أَنْ تُعْصَرَ .وَھٰذَا الَّذِیْ اسْتَحْبَبْنَاہُ مِنْ تَأْخِیْرِ الْعَصْرِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ إِلٰی وَقْتٍ قَدْ تَغَیَّرَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ، أَوْ دَخَلَتْہَا صُفْرَۃٌ وَہُوَ قَوْلِ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی، وَبِہٖ نَأْخُذُ .فَإِنِ احْتَجَّ مُحْتَجٌّ فِی التَّبْکِیْرِ بِہٖ أَیْضًا بِمَا۔
١١٢٢: خالد نے ابو قلابہ (رض) سے نقل کیا کہ عصر کا نام عصر رکھنے کی وجہ اس کا متاخر کرنا ہے۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلاۃ ١؍٣٢٨۔
حاصل یہ ہے کہ ابو قلابہ (رض) نے بتلایا کہ اس کا نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے راستے کو گویا نچوڑا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے ہم نے بھی تاخیر عصر کو مستحب قرار دیا کہ اس کو متاخر کیا جائے مگر یہ یاد رہے کہ یہ اس وقت سے پہلے پہلے ہے جس میں سورج کی دھوپ زرد ہو کر بدل جاتی ہے یا اس میں زردی کا اثر پیدا ہو۔
یہی ہمارے ائمہ ثلاثہ ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد بن الحسن (رح) کا مذہب و مسلک ہے۔
آخری اشکال :
رافع بن خدیج (رض) کی روایت میں ہے کہ عصر پڑھ کر ہم اونٹ ذبح کر کے تقسیم کرتے اور اس کا گوشت سورج غروب ہونے سے پہلے کھالیتے تھے معلوم ہوا کہ عصر اول وقت میں پڑھی جاتی تھی۔
روایت رافع ملاحظہ ہو۔