۱۱۲۴ : حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانُ الْجِیْزِیُّ قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوْسٰی قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ سَمْعَانَ مَوْلَی الزُّرَقِیِّیْنَ قَالَا دَخَلَ عَلَیْنَا أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ مَدًّا) فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ مَدًّا وَلَمْ یُوَقِّتُوْا فِیْ ذٰلِکَ شَیْئًا وَاحْتَجُّوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا، بَلْ یَنْبَغِی، لَہٗ أَنْ یَرْفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا
١١٢٤: سعید بن سمعان جو کہ زرقیین کے مولیٰ تھے بیان کرتے ہیں ہمارے ہاں ابوہریرہ (رض) تشریف لائے اور فرمانے لگے جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کھینچ کر اوپر کو اٹھاتے۔ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جب آدمی نماز کو شروع کرے تو اپنے ہاتھوں کو کھینچ کر اوپر کو اٹھائے مگر اس کے لیے انھوں نے کسی وقت کو متعین نہیں کیا اور اسی روایت بالا کو اپنی دلیل میں پیش کیا جبکہ علماء کی دوسری جماعت کہتی ہے کہ ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھائے اور انھوں نے اپنی دلیل میں یہ روایات پیش کی ہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١١٧‘ نمبر ٧٥٣‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ٦٣‘ ٢٣٩؍٢٤٠‘ نسائی فی الافتتاح باب ٦۔
خلاصہ الزام : تکبیر تحریمہ کا لفظ واجب تو بالاتفاق ہے مگر بعض ائمہ اس وجوب میں رکنیت کا درجہ مانتے ہیں جبکہ دوسرے ائمہ شرط کہتے ہیں البتہ ہاتھوں کے اٹھانے کو سب کے ہاں سنت کا درجہ حاصل ہے اختلاف اس میں ہے۔
نمبر ١: مطلقاً سنت ہے یہ بعض لوگوں کا مسلک ہے۔
نمبر ٢: مونڈھوں کی قید کے ساتھ سنت ہے یہ ائمہ ثلاثہ کا مسلک ہے۔
نمبر ٣: کانوں تک اٹھانا چاہیے یہ احناف کا مسلک ہے۔
مؤقف اوّل : کہ مطلقاً ہاتھ اٹھانا سنت ہے یہ بعض لوگوں کا مسلک ہے انھوں نے مندرجہ ذیل روایات کو اپنا مستدل مانا ہے۔
حاصل روایت : اس روایت میں کھینچ کرر ہاتھوں کو بلند کرنے کا عمل مذکور ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہاتھوں کے اٹھانے میں کوئی قید مسنون نہیں کندھوں تک ہوں یا کانوں تک ہر طرح درست ہے۔