۱۱۲۹ : وَبِمَا قَدْ حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِیْ أُنَیْسَۃَ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : رَأَیْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ حِیْنَ افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ، رَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ .فَسَأَلْتُہٗ عَنْ ذٰلِکَ؟ فَقَالَۃ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَفْعَلُ ذٰلِکَ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا : رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ .
١١٢٩: زید بن ابی انیسہ نے حضرت جابر (رض) سے نقل کیا کہ میں نے سالم بن عبداللہ کو نماز شروع کرتے دیکھا کہ انھوں نے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایا ہے میں نے ان سے اس کے متعلق دریافت کیا تو وہ کہنے لگے میں نے ابن عمر (رض) کو ایسا کرتے دیکھا اور ابن عمر (رض) نے کہا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح کرتے دیکھا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ کچھ علماء کا کہنا ہے کہ شروع نماز کی تکبیر میں ہاتھوں کا اٹھانا کندھوں تک ہے۔ اس سے تجاوز نہ کیا جائے۔ انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا اور ہمارے نزدیک حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں مذکور بات اس کے خلاف نہیں کیونکہ اس میں صرف اتنی بات ہے کہ جب آپ نماز کے لیے اٹھتے تو آپ ہاتھوں کو دراز کر کے اٹھاتے۔ روایت میں دراز کرنے کی کوئی انتہا مذکور نہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ کندھوں کے برابر اٹھاتے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ نماز سے پہلے یہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا ہو اور نماز کی تکبیر کے بعد میں کہہ کر کندھوں کے برابر اٹھاتے ہوں تو بس حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا مراد ہوا اور حضرت علی اور حضرت ابن عمر (رض) کی روایت میں نماز کی ابتداء کے لیے ہاتھ اٹھانا مراد ہو تاکہ ان روایتوں میں تضاد نہ رہے۔ علماء کی ایک اور جماعت نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہا کہ نماز کو شروع کرتے ہوئے ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھایا جائے گا تاکہ ان روایتوں میں تضاد نہ رہے۔ علماء کی ایک اور جماعت نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہا کہ نماز کو شروع کرتے ہوئے ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھایا جائے گا اور انھوں نے اس سلسلہ میں ان روایات سے استدلال کیا۔