۱۱۳۵ : وَبِمَا قَدْ حَدَّثَنِیْ أَبُو الْحُسَیْنِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَخْلَدِ ڑ الْأَصْبَہَانِیُّ، قَالَ : ثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ قَالَ : ثَنَا عُتْبَۃُ بْنُ أَبِیْ حَکِیْمٍ، عَنْ عِیْسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْعَدَوِیِّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَہْلٍ، عَنْ أَبِیْ حُمَیْدِ ڑالسَّاعِدِیِّ (أَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ لِأَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ اِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ کَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حِذَائَ وَجْہِہٖ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَلَمَّا اخْتَلَفَتْ ھٰذِہِ الْآثَارُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، الَّتِیْ فِیْہَا بَیَانُ الرَّفْعِ إِلٰی أَیِّ مَوْضِعٍ ہُوَ، فِی الْمَوْضِعِ الَّذِیْ انْتَہٰی بِہٖ، وَخَرَجَ حَدِیْثُ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، الَّذِیْ بَدَأْنَا بِذِکْرِہٖ، أَنْ یَکُوْنَ مُضَادًّا لَہَا، أَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ أَیُّ ہٰذَیْنِ الْمَعْنَیَیْنِ أَوْلٰی أَنْ یُقَالَ بِہٖ؟
١١٣٥: عباس بن سہل نے ابو حمید ساعدی (رض) سے نقل کیا کہ وہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمانے لگے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کو تم سب سے زیادہ جاننے والا ہوں جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے کے برابر بلند کرتے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقولہ روایات جن میں ہاتھوں کو اٹھانے کا تذکرہ ہے اس بارے میں مختلف ہیں کہ کہاں تک ہاتھ اٹھائے جائیں اور حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت جو شروع میں ہم نے ذکر کی وہ بھی ان کے مخالف نہیں تو ہم نے یہ چاہا کہ ان دونوں معانی میں سے جو اولیٰ ہو اس کے متعلق غور و فکر کریں۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١١٦‘ نمبر ٧٣٣‘ نسائی فی السہو باب ٢٩‘ مسند احمد ٥؍٤٢٤۔
حاصل روایات : ان پانچوں روایات میں کانوں کے برابر ہاتھ اٹھانا مذکور ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مسنون ہے۔
بےلاگ محاکمہ :
روایت ابوہریرہ (رض) جو ابتداء باب میں واقع ہے اس کا جواب ہوچکا اس کا بعد والی روایات سے تضاد دور کردیا گیا اب مؤقف ثانی و ثالث کی روایات میں کھلا تضاد معلوم ہوتا ہے اس کے متعلق فیصلہ پر پہنچنے کے لیے مندرجہ ذیل روایت کو ملاحظہ فرمائیں۔