۱۱۳۷ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ ظَفَرٍ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَہَّرٍ (عَلٰی وَزْنِ مَفْعُوْلٍ مِنَ التَّفْعِیْلِ) قَالَ : ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ الضُّبَعِیُّ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَلِیٍّ الرِّفَاعِیِّ، عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِیْ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ ڑالْخُدْرِیِّ قَالَ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ کَبَّرَ ثُمَّ یَقُوْلُ : سُبْحَانَک اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِک، وَتَبَارَکَ اسْمُک، وَتَعَالٰی جَدُّک، وَلَا إِلٰـہَ غَیْرُکَ، ثُمَّ یَقُوْلُ : لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ، ثُمَّ یَقُوْلُ : اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا ثَلَاثًا ثُمَّ یَقُوْلُ أَعُوذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ مِنْ ہَمْزِہٖ، وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ ثُمَّ یَقْرَأُ) .
١١٣٧: ابوالمتوکل ناجی حضرت ابو سعید الخدری (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو اٹھتے اور نماز کے لیے تکبیر افتتاح کہہ چکتے تو پھر پڑھتے : سُبْحَانَک اللّٰہُمَّ تا غَیْرُکَ پھر پڑھتے لاالٰہ الا اللہ پھر تین مرتبہ پڑھتے : اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا پھر پڑھتے : أَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ہَمْزِہِ ، وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ (میں اللہ تعالیٰ جو سمیع علیم ہیں شیطان مردود کی طعنہ زنی اور پھونک سے پناہ مانگتا ہوں) پھر آپ قراءت شروع فرماتے۔
تخریج : ابو داؤد باب الصلاۃ باب ١٢٠‘ ٧٧٥‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ٦٥‘ نمبر ٢٤٢‘ ابن ماجہ فی الاقامہ باب ٢‘ نمبر ٨٠٤‘ مسند احمد ٣؍٥٠۔
خلاصہ الزام : تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء اور انی وجہت کے پڑھنے کی نوعیت میں اختلاف ہے امام ابوحنیفہ ‘ و محمد و احمد و دیگر علماء (رح) ثناء کو واجب کہتے اور انی وجہت کو مسنون قرار نہیں دیتے۔
نمبر ٢: فریق دوم امام یوسف و اوزاعی طحاوی وغیرہ (رح) ہر دو کو مسنون مانتے ہیں۔