۱۱۴۵ : وَکَمَا حَدَّثَنَا فَہْدٌ، قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ، قَالَ : ثَنَا أَبِیْ، قَالَ : ثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ اِبْرَاہِیْمُ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، وَالْأَسْوَدِ أَنَّہُمَا سَمِعَا عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَبَّرَ، فَرَفَعَ صَوْتَہُ وَقَالَ : مِثْلَ ذٰلِکَ لِیَتَعَلَّمُوْہَا قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا فَقَالُوْا : ھٰکَذَا یَنْبَغِیْ لِلْمُصَلِّیْ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ، أَنْ یَقُوْلَ، وَلَا یَزِیْدَ عَلٰی ھٰذَا شَیْئًا غَیْرَ التَّعَوُّذِ، إِنْ کَانَ إمَامًا، أَوْ مُصَلِّیًا لِنَفْسِہِ، وَمِمَّنْ قَالَ ذٰلِکَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَقَالُوْا : بَلْ یَنْبَغِیْ لَہٗ أَنْ یَزِیْدَ بَعْدَ ھٰذَا مَا قَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَذَکَرُوْا۔
١١٤٥: ابراہیم نے علقمہ اور اسود دونوں سے نقل کیا کہ دونوں نے حضرت عمر (رض) سے اسی طرح سنا کہ انھوں نے تکبیر افتتاح کہی اور اپنی آواز کو بلند کیا اور سبحانک اللہم بھی ذرا زور سے پڑھی تاکہ لوگ سیکھ لیں (کہ اس مقام پر یہی پڑھی جاتی ہے) امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نمازی کے لیے یہی مناسب ہے کہ جب وہ نماز کو شروع کرے تو یہی الفاظ کہے اور اعوذ باللہ کے علاوہ کسی چیز کا اضافہ نہ کرے جبکہ وہ امام یا اپنی نماز پڑھنے والا ہو یہ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ دوسروں نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مناسب یہ ہے کہ اس کے بعد وہ الفاظ بھی پڑھے جائیں جو حضرت علی (رض) کی روایت میں مذکور ہیں۔ چنانچہ انھوں نے یہ روایات ذکر کیں۔
تخریج : بیہقی ٢؍٥٢‘ ابن ابی شیبہ ١؍٢١٠۔
حاصل روایات : یہاں تک جس قدر روایات و آثار گزرے ان میں تکبیر افتتاح کے بعد سبحانک اللہم کا پڑھنا مذکور ہے انی وجہت مذکور نہیں معلوم ہوا کہ ثنا ہی لازم ہے اگر امام ہو یا مقتدی تکبیر افتتاح کے بعد سبحانک اللہم پڑھے اس پر اضافہ نہ کرے امام تعوذ تسمیہ و قراءت سب کچھ پڑھے گا یہ امام ابوحنیفہ و امام محمد و احمد (رح) کا مسلک ہے۔