hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1158

.

الطحاوي

1158
Al Tahawi
۱۱۵۸ : بِمَا حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ، قَالَ : ثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ زُرْعَۃَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا نَہَضَ فِی الثَّانِیَۃِ، اسْتَفْتَحَ بِالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَلَمْ یَسْکُتْ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ فَفِیْ ھٰذَا دَلِیْلٌ أَنَّ " بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ " لَیْسَتْ مِنْ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ، وَلَوْ کَانَتْ مِنْ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ، لَقَرَأَ بِہَا فِی الثَّانِیَۃِ، کَمَا قَرَأَ فَاتِحَۃَ الْکِتَابِ .وَالَّذِیْنَ اسْتَحَبُّوا الْجَہْرَ بِہَا فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی لِأَنَّہَا - عِنْدَہُمْ - مِنْ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ، اسْتَحَبُّوْا ذٰلِکَ أَیْضًا فِی الثَّانِیَۃِ فَلَمَّا انْتَفٰی بِحَدِیْثِ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ھٰذَا أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَرَأَ بِہَا فِی الثَّانِیَۃِ، انْتَفٰی بِہٖ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ قَرَأَ بِہَا فِی الْأُوْلٰی .فَعَارَضَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ، حَدِیْثَ نُعَیْمِ بْنِ الْمُجْمِرِ، وَکَانَ ھٰذَا أَوْلٰی مِنْہُ، لِاسْتِقَامَۃِ طَرِیْقِہٖ، وَفَضَّلَ صِحَّۃَ مَجِیْئِہٖ، عَلٰی مَجِیْئِ حَدِیْثِ نُعَیْمٍ .وَقَالُوْا : وَأَمَّا حَدِیْثُ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، الَّذِیْ رَوَاہُ ابْنُ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ، فَقَدِ اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ رَوَوْہُ فِیْ لَفْظِہٖ.فَرَوَاہُ بَعْضُہُمْ عَلٰی مَا ذَکَرْنَاہُ، وَرَوَاہُ آخَرُوْنَ عَلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ۔
١١٥٨: ابو زرعہ بن عمرو بن جریر کہتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) نے ہمیں بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو رکعت کی قراءت کو الحمدللہ سے شروع فرماتے اور سکوت نہ فرماتے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں اس سے یہ واضح دلیل مل گئی کہ بسم اللہ فاتحہ کا حصہ نہیں۔ اگر فاتحہ کا حصہ ہوتی تو دوسری رکعت میں پڑھی جاتی۔ جیسا کہ آپ نے فاتحہ کو پڑھا ‘ رہے وہ لوگ جنہوں نے پہلی رکعت میں اس کے جہر کے ساتھ پڑھنے کو مستحب قرار دیا تو ان کے ہاں اس کی وجہ فاتحۃ الکتاب کا حصہ ہونا ہے اور دوسری رکعت میں بھی انھوں نے مستحب قرار دیا۔ جب روایت بالا سے اس کے دوسری رکعت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نفی ہوگئی تو اس سے پہلی رکعت کے اندر پڑھنے کی بھی نفی ہوگئی۔ تو یہ روایت نعیم بن مجمر کی روایت کے معارض بنی اور یہ روایت اس سے سند کی پختگی کے لحاظ سے بہتر ہے۔ رہی وہ روایت جس کو حضرت امّ سلمہ (رض) نے ابن ابی ملکیہ سے ذکر کیا تو خود اس روایت کے الفاظ میں شدید اختلاف تھا۔ بعض نے اسی طرح روایت کی جس طرح ہم نے اور بعض نے دوسرے انداز سے روایت کی۔
تخریج : مسلم فی المساجد نمبر ١٤٨۔
فریق اوّل کی روایات کے جوابات :
نعیم بن مجمر کی روایت سے روایت ابوہریرہ (رض) سند کے اعتبار سے اعلیٰ اور صحت متن میں بھی افضل ہے پس اس کو ترجیح حاصل ہوگی روایت ابوہریرہ (رض) کا حاصل یہ ہے کہ بسم اللہ سورة فاتحہ کا حصہ نہیں اگر اس کا حصہ ہوتی تو دوسری رکعت میں اس کو پڑھا جاتا جیسا کہ فاتحہ کو پڑھا گیا پس ثابت ہوگیا کہ جب دوسری رکعت میں اس کا پڑھنا ثابت نہ ہوا تو پہلی رکعت میں بھی منتفی ہوا۔
روایت امّ سلمہ (رض) کا جواب :
اس روایت کے الفاظ میں اختلاف ہے ‘ اضطراب متن کی وجہ سے قابل حجت نہیں جیسا کہ دوسری سند سے روایت امّ سلمہ (رض) سے ظاہر ہو رہا ہے۔