hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1187

.

الطحاوي

1187
Al Tahawi
۱۱۸۷ : وَکَمَا حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ یَزِیْدَ بْنَ ہَارُوْنَ قَالَ : أَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَذَکَرَ مِثْلَہٗ .قَالَ : وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، فَقَالَ : إِنِّیْ لِأَسْتَحْیِ أُصَلِّیْ صَلَاۃً لَا أَقْرَأُ فِیْہَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَمَا تَیَسَّرَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ فَھٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَدْ رُوِیَ عَنْہُ مِنْ رَأْیِہِ أَنَّ الْمَأْمُوْمَ یَقْرَأُ خَلْفَ الْاِمَامِ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ، وَقَدْ رَأَیْنَا الْاِمَامَ تَحَمَّلَ عَنِ الْمَأْمُوْمِ، وَلَمْ نَرَ الْمَأْمُوْمَ تَحَمَّلَ عَنِ الْاِمَامِ شَیْئًا .فَإِذَا کَانَ الْمَأْمُوْمُ یَقْرَأُ، فَالْاِمَامُ أَحْرٰی أَنْ یَقْرَأَ مَعَ مَا قَدْ رَوَیْنَا عَنْہُ أَیْضًا مِنْ أَمْرِہٖ بِالْقِرَائَ ۃِ فِیْہِمَا .فَأَمَّا مَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِلَافُ مَا رَوَاہُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ ذٰلِکَ، فَإِنَّ أَبَا بَکْرَۃَ، بَکَّارُ بْنَ قُتَیْبَۃَ۔
١١٨٧: ابوالعالیہ کہتے ہیں میں نے ابن عباس (رض) سے پوچھا تو انھوں نے اسی طرح فرمایا جیسا روایت بالا میں گزرا ابوالعالیہ کہتے ہیں میں نے ابن عمر (رض) سے دریافت کیا تو کہنے لگے مجھے حیاء دامن گیر ہے کہ میں کوئی نماز ایسی پڑھوں جس میں سورة فاتحہ اور جو حصہ قرآن مجید کا میسر ہو وہ نہ پڑھ لوں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں یہ ابن عباس (رض) کا فتویٰ ہے کے مقتدی امام کے پیچھے ظہر و عصر میں قراءت کرے گا اور ہمارے ہاں امام مقتدی کی قراءت کا ذمہ دار ہے۔ مقتدی امام کی کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہے۔ پس جب مقتدی کو پڑھنے کا وہ حکم فرما رہے ہیں تو امام کا قراءت کرنا تو بدرجہ اولیٰ ثابت ہوجائے گا جبکہ یہ بات بھی ہے کہ ہم نے ان دونوں نمازوں میں قراءت کی ‘ روایت ان سے نقل کرچکے ہیں پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی ابن عباس (رض) کی روایت کے خلاف روایات وارد ہیں ‘ ملاحظہ ہوں۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلاۃ ١؍٣٦١۔
حاصل روایات : ان روایات سے ابن عباس (رض) فقط منفرد کا قراءت کرنا نہیں بلکہ امام کے پیچھے ظہر و عصر میں مقتدی کو قراءت کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور ذمہ دار تو امام ہے جب مقتدی پر قراءت لازم ہے تو اس کا امام تو لازماً قراءت کرے گا پس جب ان سے قراءت ظہر و عصر کا حکم ثابت ہوا تو ان کے متعلق نقل کردہ فتویٰ کی حیثیت نہ رہی۔
اور ابن عمر (رض) کے ارشاد سے بھی ظہر و عصر کی قراءت ثابت ہوئی جس سے سوید بن غفلہ (رح) کی روایت کا جواب بھی ثابت ہوگیا۔

مؤقف فریق ثانی :
عصر و ظہر میں بھی بقیہ نمازوں کی طرح قراءت ہے یہ ائمہ اربعہ تمام فقہاء و محدثین کا مسلک ہے یہ روایات اور اسی طرح کثیر روایات ان کی مستدل ہیں چند پیش کی جاتی ہیں۔