hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 120

.

الطحاوي

120
Al Tahawi
۱۲۰ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ وَعَبْدُ الْغَنِیِّ بْنُ أَبِیْ عَقِیْلٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالُوْا : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِیْ یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَالِمٍ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی الْمَازِنِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمِ ڑ الْمَازِنِیِّ ( عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ أَخَذَ بِیَدِہٖ فِیْ وُضُوْئِہٖ لِلصَّلَاۃِ مَائً فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِہٖ ثُمَّ ذَہَبَ بِیَدِہِ إِلٰی مُؤَخَّرِ الرَّأْسِ ثُمَّ رَدَّہُمَا إِلَی مُقَدَّمِہٖ) .قَالَ مَالِکٌ: ھٰذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِیْ ذٰلِکَ ، وَأَعَمُّہٗ فِیْ مَسْحِ الرَّأْسِ .
١٢٠ : حضرت عبداللہ بن زید مازنی (رض) کہتے ہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے لیے وضو کے دوران ہاتھ میں پانی لیا اور سر کے اگلی جانب سے ہاتھ رکھ کر پھر اپنے ہاتھوں کو سر کے پچھلی جانب لے گئے پھر دونوں ہاتھوں کو سر کی اگلی جانب کی طرف لوٹایا۔ امام مالک اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں یہ ان تمام روایات میں اعلی روایت ہے اور مسح رأس کے سلسلہ میں عام ہے۔
تخریج : بخاری فی الوضوء باب ٣٨‘ مسلم فی الطھارۃ حدیث ١٨‘ ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٥١‘ ترمذی فی الطھارۃ باب ٢٤‘ نسائی فی الطھارۃ باب ٧٩‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ٥١‘ مالک فی الطھارۃ حدیث ١‘ مسند احمد ٤؍٣٨؍٣٩،
خلاصہ الزام : سر کے مسح کی کتنی مقدار وضو میں فرض ہے اس میں دو قول ہیں۔
نمبر ١: امام مالک (رح) و دیگر ائمہ کے نزدیک تمام سر کا مسح فرض ہے۔
نمبر ٢: دوسرا قول ائمہ ثلاثہ اور جمہور محدثین و فقہاء کا ہے کہ تمام سر کا مسح تو مسنون ہے اور کمال فضیلت ہے البتہ بعض حصہ کا مسح فرض ہے۔