۱۲۴۱ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنَ الْخُرَاسَانِیُّ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ : ثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ فِیْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃ بِ (الشَّمْسِ وَضُحَاہَا) وَأَشْبَاہِہَا مِنَ السُّوَرِ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَہَلْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (أَنَّہٗ قَرَأَ فِی الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ) .قِیْلَ لَہٗ " نَعَمْ"
١٢٤١: حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) نے اپنے والد سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز عشاء میں سورة والشمس وضحاھا اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلہ میں کوئی روایت آئی ہے تو اسے کہا جائے گا جی ہاں ! (جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب میں قصار مفصل پڑھی ہے) ۔
تخریج : ترمذی فی الصلاۃ باب ١١٤‘ نمبر ٣٠٩۔
اشکال نمبر ٣:
کیا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مغرب میں قصار مفصل کے پڑھنے کا ثبوت مل سکتا ہے۔
الجواب : جی ہاں اس کا ثبوت ملتا ہے مندرجہ ذیل روایات ملاحظہ ہوں۔