hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1245

.

الطحاوي

1245
Al Tahawi
۱۲۴۵ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ : أَنَا عُثْمَانُ بْنُ مِکْتَلٍ عَنِ الضَّحَّاکِ، ثُمَّ ذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَھٰذَا أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ أَخْبَرَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ کَانَ یَقْرَأُ فِیْ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ .فَإِنْ حَمَلْنَا حَدِیْثَ جُبَیْرٍ وَمَا رَوَیْنَا مَعَہٗ مِنَ الْآثَارِ، عَلٰی مَا حَمَلَہٗ عَلَیْہِ الْمُخَالِفُ لَنَا، تَضَادَّتْ تِلْکَ الْآثَارُ وَحَدِیْثُ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ھٰذَا، وَإِنْ حَمَلْنَاہَا عَلٰی مَا ذَکَرْنَا اتَّفَقَتْ ہِیَ وَھٰذَا الْحَدِیْثُ .وَأَوْلٰی بِنَا أَنْ نَحْمِلَ الْآثَارَ عَلَی الْاِتِّفَاقِ لَا عَلَی التَّضَادِّ .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّ مَا یَنْبَغِیْ أَنْ یُقْرَأَ بِہٖ فِیْ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ ہُوَ قِصَارُ الْمُفَصَّلِ وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدٍ - رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی - .وَقَدْ رُوِیَ مِثْلُ ذٰلِکَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔
١٢٤٥: عثمان بن مکتل نے ضحاک سے روایت نقل کی پھر انھوں نے اپنی سند سے روایت کی ہے۔ یہ حضرت ابوہریرہ (رض) کہ جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق بتلا رہے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں قصار مفصل پڑھتے تھے۔ اگر ہم حضرت جبیر اور ان کے ساتھ مذکورہ روایات کو اس بات پر محمول کریں جو ہمارے مخالفین کہتے ہیں تو پھر حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت سے ان کا تضاد لازم آئے گا۔ اور اگر وہ مفہوم مراد لیں جو ہم نے پیش کیا ہے تو وہ روایات اور یہ حدیث باہمی متفق ہوجائیں گی اور تضاد نہ رہے گا۔ پس ہماری مذکورہ بات سے یہ ثابت ہوگیا کہ نماز مغرب میں قصار مفصل پڑھی جائے گی۔ اور یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف و محمد (رح) کا قول ہے اور حضرت عمر (رض) سے بھی اس کی مثل ارشاد مروی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
تخریج : بیہقی ١؍٥٤٧۔
فیصلہ کن بات یہ ہے :
یہ حضرت ابوہریرہ (رض) ہیں جو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز مغرب میں قصار مفصل کا پڑھنا بتلا رہے ہیں اسی طرح دیگر روایات و آثار سے بھی یہ بات ثابت ہو رہی ہے اگر روایت جبیر کو مؤقف اول والے حضرات کے مطابق محمول کریں تو پھر وہ روایت ان تمام آثار سے ٹکراتی ہے اور اگر اس روایت کی وہ تاویل (سورة کا جز پڑھنا) مراد لیں تو اس ان روایات اور اس میں موافقت ہوجاتی ہے پس مقصود تو عمل ہے پس روایات کا موافق پر محمول کرنا تضاد سے اولیٰ تر ہے مناسب ترین بات یہی ہے کہ مغرب میں قصار مفصل پڑھی جائے۔
اور یہی ہمارے ائمہ ثلاثہ امام ابوحنیفہ و ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا مسلک ہے اور حضرت عمر (رض) کا قول بھی اس کی حمایت میں موجود ہے جو آخر میں نقل کر رہے ہیں۔