hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1247

.

الطحاوي

1247
Al Tahawi
۱۲۴۷ : حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ یَزِیْدَ بْنَ ہَارُوْنَ قَالَ : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَکْحُوْلٍ، عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ الرَّبِیْعِ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃَ الْفَجْرِ فَتَعَایَتْ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ : (أَتَقْرَؤُنَ خَلْفِیْ) قُلْنَا : نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ (فَلَا تَفْعَلُوْا إِلَّا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ، فَإِنَّہٗ لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِہَا) .
١٢٤٧: محمود بن الربیع نے عبادہ بن صامت (رض) سے نقل کیا کہ ہمیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز پڑھائی پس آپ پر قراءت گراں ہوئی جب سلام پھیرا تو آپ نے فرمایا کیا تم میرے پیچھے پڑھتے ہو انھوں نے جواب دیا جی ہاں ! یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا ایسا مت کرو سوائے فاتحۃ الکتاب کے اس لیے کہ اس کی نماز نہیں جس نے فاتحہ نہ پڑھی۔
خلاصہ الزام : امام و مقتدی کی الگ الگ ذمہ داری ہے کہ منفرد و امام کی طرح مقتدی کا وظیفہ قراءت میں وہی ہے جو ان کا ہے۔
فریق اوّل :
امام شافعی اور اہل ظواہر ‘ احمد بن حنبل ‘ مالک (رح) کے ہاں مقتدی کو امام کے پیچھے فاتحہ و سورة پڑھنا واجب یا مستحب ہے۔
فریق دوم :
امام ابوحنیفہ ‘ سفیان ثوری ‘ ابراہیم نخعی (رح) کے ہاں امام کے پیچھے فاتحہ اور دیگر کوئی سورة پڑھنی درست نہیں۔
اللغات : تعایت۔ گراں ہونا۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٣٢‘ نمبر ١٨٢٣‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ١١٥‘ نمبر ٣١١‘ مستدرک محاکم ١؍٢٣٨‘ بمع تغیر یسیر۔